جمعہ 2 جنوری 2026 - 11:11
سلونی، سلونی — علمِ علیؑ کی گونج

حوزہ/ تاریخِ انسانی میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنے عہد کی نہیں ہوتیں، وہ زمانوں کو مخاطب کرتی ہیں۔ ان کی آواز ایک نہیں ہوتی، کئی لہجوں میں بولتی ہے؛ کبھی علم بن کر، کبھی عدل بن کر، کبھی اخلاق بن کر، اور کبھی مظلوموں کے لیے ڈھارس بن کر۔ امام علی علیہ السلام ایسی ہی ایک جامع، ہمہ جہت اور زندہ شخصیت ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی I

تحریر : اسد علی دلوانی

تاریخِ انسانی میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنے عہد کی نہیں ہوتیں، وہ زمانوں کو مخاطب کرتی ہیں۔ ان کی آواز ایک نہیں ہوتی، کئی لہجوں میں بولتی ہے؛ کبھی علم بن کر، کبھی عدل بن کر، کبھی اخلاق بن کر، اور کبھی مظلوموں کے لیے ڈھارس بن کر۔ امام علی علیہ السلام ایسی ہی ایک جامع، ہمہ جہت اور زندہ شخصیت ہیں۔ اگر ان کی حیاتِ مبارکہ کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ جملہ یہی بنے گا: "ایک شخصیت، کئی آوازیں"

ان آوازوں میں سب سے بلند، سب سے نادر اور سب سے چیلنج کرنے والی آواز وہ ہے جس نے تاریخ کے دروازے پر دستک دی اور کہا: “سلونی قبل أن تفقدونی” مجھ سے پوچھ لو، مجھ سے پوچھ لو اس سے پہلے کہ تم مجھے کھو دو۔

یہ محض ایک جملہ نہیں تھا؛ یہ علم کی خود اعتمادی، معرفت کی وسعت، اور ذمہ داری کا اعلان تھا۔ یہ کسی منبر کی خطابت نہیں، کسی فلسفی کی مبالغہ آرائی نہیں، بلکہ اس ہستی کی صداقت تھی جس کی گود میں نبوت پلی، جس کے کانوں نے وحی کی بازگشت سنی، اور جس کے دل نے قرآن کو نازل ہوتے دیکھا۔

سلونی: علم کا اعلان یا امانت کا بوجھ؟

“سلونی” کہنا آسان ہے، مگر اس کا حق ادا کرنا مشکل۔ دنیا کے بڑے بڑے مفکرین، علما اور فلسفی اپنی محدودات کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔ کوئی طبیعات میں ماہر ہے تو اخلاق میں خاموش، کوئی فقہ جانتا ہے تو سیاست میں لغزش، کوئی فلسفہ سمجھتا ہے تو روحانیت میں تشنگی۔

لیکن امام علیؑ کی “سلونی” ایسی ہمہ گیر دعوت تھی جس میں دین، دنیا، عقل، نقل، ماضی، حال اور مستقبل، سب سمٹ آتے ہیں۔

یہ اعلان دراصل امت کو یہ بتانے کے لیے تھا کہ علم اگر وراثتِ نبوت ہو تو وہ تقسیم نہیں ہوتا، منتشر نہیں ہوتا، بلکہ وحدت بن جاتا ہے۔ علیؑ کا علم کسی ایک کتاب میں بند نہیں تھا؛ وہ قرآنِ ناطق تھے۔ اسی لیے جب پوچھا گیا تو جواب صرف الفاظ نہ تھے، بلکہ حقیقت کی رہنمائی تھی۔

ایک آواز: معلمِ انسانیت

“سلونی” کی پہلی آواز تعلیم ہے۔

یہ آواز کہتی ہے: علم کو چھپاؤ نہیں، بانٹو؛ سوال سے نہ گھبراؤ، سوال کو زندہ رکھو۔ امام علیؑ نے سوال کرنے والوں میں فرق نہیں کیا—عالم ہو یا عامی، دوست ہو یا مخالف۔ ان کے دروازے پر سوال، جرم نہیں تھا؛ جہالت جرم تھی۔

آج کا انسان معلومات کی فراوانی میں بھی گم ہے۔ گوگل ہے، کتابیں ہیں، لیکچرز ہیں، مگر سمجھ نہیں۔ یہاں “سلونی” ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ علم کا مقصد معلومات نہیں، ہدایت ہے۔ علیؑ کی تعلیم انسان کو بہتر انسان بناتی ہے، نہ کہ صرف بحث جیتنے والا مقرر۔

دوسری آواز: حاکمِ عادل

سلونی” کی دوسری آواز عدل کی ہے۔ یہ اس حاکم کی آواز ہے جو کہتا ہے: اگر مجھ سے سوال ہے تو پوچھو میرے فیصلوں پر، میرے بیت المال پر، میری ذات پر۔ تاریخ میں شاذ ہی کوئی حکمران ایسا گزرا ہے جو احتساب کو دعوت دے۔

امام علیؑ کا عدل کتابی نہیں تھا، عملی تھا۔ وہ عدل جس میں بھائی عقیلؑ اور ایک یہودی ایک ہی میزان میں تولے جاتے ہیں۔ آج کے دور میں، جہاں اقتدار سوال سے بھاگتا ہے، علیؑ کا “سلونی” ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قیادت وہ ہے جو سوال سے نہ ڈرے۔

تیسری آواز: عارفِ ربّانی

“سلونی” صرف عقل کی نہیں، دل کی آواز بھی ہے۔

امام علیؑ نے خدا کو دلیل سے نہیں، یقین سے پہچانا۔ ان کی مناجات، ان کی دعائیں، ان کے آنسو سب ہمیں بتاتے ہیں کہ علم اگر عبادت سے جدا ہو جائے تو تکبر بن جاتا ہے۔

یہ آواز ہمیں آج کے خشک مذہبی ماحول میں یاد دلاتی ہے کہ دین صرف قانون نہیں، رابطہ ہے؛ خدا سے، انسان سے، اور اپنے ضمیر سے۔ علیؑ کا عرفان انسان کو خدا کے قریب لے جاتا ہے، اور خدا کے قریب ہو کر انسانوں سے دور نہیں کرتا۔

چوتھی آواز: مظلوموں کا وکیل

“سلونی” ایک احتجاج بھی ہے۔

یہ آواز کہتی ہے: مجھ سے پوچھو کہ ظلم کیا ہے، اور اس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔ امام علیؑ نے فرمایا:

ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ”۔

یہی وجہ ہے کہ علیؑ ہر دور کے مظلوم کی زبان بن جاتے ہیں۔ فلسطین ہو یا یمن، غربت ہو یا ناانصافی، علیؑ کا نام نعرہ نہیں، ضابطۂ حیات ہے۔

آج کے دور میں “سلونی” کی معنویت

آج انسان بولتا بہت ہے، سنتا کم ہے۔ سوال بھی کرتا ہے تو نیت کے بغیر۔ “سلونی” ہمیں سکھاتا ہے:

سوال سچ کی تلاش ہو

جواب ذمہ داری کے ساتھ ہو

اور علم عمل میں ڈھلے

اگر آج امام علیؑ کو صرف مجالس یا نعروں تک محدود کر دیا جائے تو ہم نے “سلونی” کی روح کھو دی۔ علیؑ کو آج نصابِ فکر بنانا ہے، تعلیم میں، سیاست میں، اخلاق میں، اور سوشل میڈیا کے شور میں بھی۔

امام علی علیہ السلام واقعی ایک شخصیت، کئی آوازیں ہیں۔

اور “سلونی، سلونی” ان آوازوں کی کنجی ہے۔

یہ ہمیں پکارتی ہے کہ آؤ، پوچھو، سمجھو، بدلو، اور خود کو علیؑ کے معیار پر پرکھو۔

کیونکہ علیؑ کو ماننا آسان ہے، علیؑ کو سمجھنا مشکل، اور علیؑ کی طرح جینا سب سے مشکل، مگر یہی نجات ہے۔

سلام بر امام زمانہ (عج)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha